نئی دہلی :11؍ فروری (ایس اؤ نیوز)کرناٹک کے اُڈپی سے شروع ہو نے والا حجاب معاملہ دن بدن ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی پھیل جانے سے ملک بھر میں اس کے اثرات نظر آرہے ہیں۔ حجاب کی حمایت میں مہاراشٹرا، مغربی بنگال، تمل ناڈو، تلنگانہ ، پدوچیری اور دہلی میں مختلف تنظیموں اور طلبا نے احتجاج کیاہے۔
حجاب معاملےمیں سیاسی پارٹیاں ، اس کے لیڈران کے ساتھ ساتھ مذہبی تنظیمیں بھی شامل ہونےکی وجہ سے معاملہ سیاسی رنگ اختیار کرتےہوئے فرقہ وارانہ روپ دھار لیا ہے۔ اور سوشیل میڈیا پربھی موضوع بحث بنا ہواہے۔
کولکتہ کی عالیہ یونیورسٹی کے طلبا مسلم طالبات کو ان کے مذہب پر عمل کرنے کا موقع فراہم کرنے کی مانگ لےکر احتجاج کررہے ہیں۔ ممبئی اور تھانہ میں احتجاجی ریلی کرتے ہوئے طلبا نے حجاب کو اپنا زیور قرار دیتے ہوئے نعرے لگائے ہیں۔ مہاراشٹرا این سی پی پس پردہ حجاب کی حمایت کرنےکی بات کہی جارہی ہے۔ حیدرآباد میں بھی طالبات نے حجاب کی حمایت میں احتجاج کیاتو تلنگانہ میں احتجاج کے دوران وزیر اعلیٰ کے سی آر کی بیٹی کویتا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اپنے لئے جو مفید سمجھتی ہیں اسی کو پہننے دیا جانا چاہئے۔ اسی طرح دہلی کے کرناٹک بھون کے سامنے حجاب کی حمایت میں احتجاج کی کوشش کی گئی ، اے آئی ایس اے اسوسی ایشن کے کارکنان اور دہلی جے این یو کے طلبا بھی کرناٹک بھون کے سامنے احتجاج کے لئے جمع ہونے لگے تو پولس نے احتجاجیوں کو اپنی تحویل میں لیا۔